ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / سرسی میں فیس بک پوسٹ پر ہنگامہ خیزی کے بعد پیس میٹنگ کا انعقاد؛ کاروار سے ایس پی کی شرکت

سرسی میں فیس بک پوسٹ پر ہنگامہ خیزی کے بعد پیس میٹنگ کا انعقاد؛ کاروار سے ایس پی کی شرکت

Thu, 15 Dec 2016 20:56:20    S.O. News Service

سرسی:15/ڈسمبر  (ایس او نیوز) عیدمیلاد النبی ﷺ کے موقع پر مراٹھی کوپا کا ایک نوجوان مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا ایک پوسٹ فیس بک اکاؤنٹ پر شائع کرنے کے متعلق دوسری قوم کے نوجوانوں کا ایک گروہ حملہ کرنےکی کوشش کئے جانے سے حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے پولس محکمہ کی طرف سے پیس میٹنگ کا انعقاد کرتے ہوئے دونوں طبقے کے لوگوں کو سخت تاکید کی گئی ۔

ضلع پولس ایس پی ونشی کرشنا کی طرف سےجاری حکم نامے کے مطابق سرسی کے ڈی ایس پی ناگیش شٹی کی صدارت میں پیس میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ میٹنگ میں دونوں طبقے کے ذمہ داران شریک ہوکر پولس محکمہ سے التجا کی کہ جو بھی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اگر ان پر کارروائی نہیں کی گئی تو یہی وجہ فساد کو راہ دے گی اور شہر کے حالات مزید بگڑسکتےہیں اس کو روکنے کے لئے ابتداء میں ہی کارروائی کرنے کا پولس افسران سے مطالبہ کیا۔

مراٹھی کوپا علاقہ کے بلدیہ ممبر شری دھر موگیر نے میٹنگ میں کہاکہ سرسی میں دوسری قوم کے نوجوانوں کی دھاندلی حد سے زیادہ ہو گئی  ہے۔ گھرو ں میں گھس کر ہنگامہ کرنےو الے نوجوانوں کو ان کے متعلقہ ذمہ داران نصیحت کریں، اگر دوبارہ ایسی کرتوت انجام دی گئی تو انہیں دوسرے طریقے سے سزا دی جائے گی ، بہتر اس کے لئے کوئی موقع نہ دیں۔ بی جے پی مقامی صدر گنپتی نائک نے میٹنگ میں کہاکہ اس سے قبل بھی ایسی کرتوتوں کو انجام دئیے جانے پر متعلقہ ذمہ داروں کو بلا بھیج کر بھائی چارگی کو باقی رکھنے کی کوششیں ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود گذشتہ دودنوں سے ایسے واقعات ہورہے ہیں، یہاں قانون کے مطابق کارروائی کرنا ضروری ہے، پولس محکمہ سیاست اور ذات پات کے تعصب سے اوپر اٹھ کر کام کرنے کی مانگ کی۔ شہر کے ذمہ دار سریش شٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شرپسندوں پر لگام نہیں کسنے کی وجہ سے ایسی کرتوتیں بار بار ہورہی ہیں، اگر اس کو یوں ہی چھوڑ دیا گیاتو فسادات ہونگے اور شہر کا سازگار ماحول برباد ہوجائے گا، جس کے لئے راست طورپر پولس محکمہ ہی ذمہ دارہوگا۔ میٹنگ میں عباس تونسے، امان اللہ خان، عبدالقادر اونٹی، رتیش گوپال، ایچ یو پٹھان، راکھیش ترومل، وٹھل پائی ، گروراج ہیگڈے وغیرہ موجود تھے۔

میٹنگ میں ڈی ایس پی ناگیش شٹی نے واضح انداز میں دونوں طبقات کے ذمہ دار ان سے کہاکہ مذہبی جذبات کوٹھیس پہنچا کر سماج کی صحت میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی مجبوری ہوگئی ہے۔ معاملے میں جو بھی ملوث ہیں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ نوجوان سوشیل نیٹ ورک کا غلط استعمال کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف سماج کی صحت بگڑ رہی ہے بلکہ حالات کشیدہ ہوکر فساد تک پہنچ رہے ہیں۔ متعلقہ سماج کے ذمہ داران اپنےنوجوانوں کو قابومیں رکھیں۔ جو بھی غلط کاموں میں ملوث ہے اس کی مطلق حمایت نہ کریں اور نہ یہ اچھی بات ہے۔ اگر ہم شرپسندوں کی حمایت میں کھڑے ہوجائیں گے تو دونوں طبقات کے درمیان نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لئے یہاں کسی راضی ہونےکا سوال ہی نہیں ، شرپسندوں کی حمایت کرکے معاملہ کو سنگین بنانے کے بجائے قانونی نظام اور استحکام میں عوام اپنا تعاون پیش کرنےکی اپیل کی۔


Share: